بارہ سال قبل جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو ان دنوں میں میرا تعارف ایک ایسے جملے سے ہوا جس کے معنی و مفہوم، اس کے مطلب، اور اس کی ذمہ داری سے میں بالکل نابلد تھی، اور وہ جملہ تھا : “بیٹا صبر کرو۔”
تب میں بے حد الجھن کا شکار تھی کہ مجھے صبر تو کرنا ہے مگر کیسے؟ یہ جو مشورہ یا نصیحت مجھے سب دیتے ہیں یہ بتاتے کیوں نہیں کہ صبر کی کوئی ترکیب تو ہو گی، کوئی طریقہ ہوگا ضرور جس کے ذریعے سے صبر کیا جائے۔ پھر کسی نے کہا کہ بیٹا روتے نہیں ہیں صبر کرتے ہیں تب میرے ناسمجھ ذہن کو یہ بات سمجھ آئی کہ شاید بس چپ رہنا صبر کرنا ہے۔ شاید کوئی بھی ری ایکشن نہ دینا صبر کرنا ہوتا ہے۔ دل پر پتھر رکھنا صبر کرنا ہوتا ہے۔ اپنے جذبات کو چھپانا صبر کرنا ہوتا ہے۔ مگر یہ بہت مشکل تھا کہ جب رونا آئے تو انسان نہ روئے، جب دل دکھ رہا ہو اور انسان ری ایکٹ نہ کرے کیوں کہ اس سے کچھ بھی بہتر نہیں ہوتا بلکہ آپ ایک ایسی بے سکونی کا شکار ہو جاتے ہیں جو اندر ہی اندر آپ کو کھا رہی ہوتی ہے۔ علم نفسیات میں اس کے بہت سے نام ہیں مگر میں ذاتی طور پر اس کو کہتی ہوں، خاموش احتجاج۔
ہر انسان کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں ایسے مراحل سے گزرا ہے جہاں اسے سب سے اچھی نصیحت یہ کی گئی ہے کہ صبر کرو۔ اچھی بات ہے، مگر میرا شکوہ بس اتنا سا ہے کہ نصیحت کرنے والے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ صبر کرنا کیسے ہے؟ زندگی کچھ ایسی ہی الجھن کا شکار تھی کہ ایک دن غزوہ بدر کا واقعہ پڑھ لیا۔
یوم الفرقان رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کی زندگی کا ایک دن۔ پہلی جنگ، پہلی بڑی کامیابی۔ بدر کی جیت کامیابی کا استعارہ ہے۔ ہم میں سے اکثر کو بس اتنا ہی معلوم ہے کہ ہزار کے مقابلے میں تین سو تیرہ تھے اور جنگ جیت کر آئے تھے۔ اکثریت یہ نہیں جانتی کہ بدر کا دن جو مسلمانوں کی اجتماعی کامیابی کا دن تھا ذاتی طور پر رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک غم کا دن تھا۔ وہ دن رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ کی وفات کا دن بھی تھا۔ قاصد جب مدینہ میں فتح کی خبر لے کر داخل ہوا توعین اسی وقت حضرت رقیہ کی قبر مبارک پر مٹی ڈالی جا رہی تھی۔ وہ بیٹی جن کا باپ سردار دو جہاں ﷺ ہے اور جنہیں معلوم بھی نہیں کہ ان کی بیٹی کی تدفین ہو چکی ہے اور وہ اب کبھی اپنی لاڈلی بیٹی کا پیارا چہرہ نہ دیکھ پائیں گے۔ میری ناقص عقل نے مجھ سے بہت سارے سوال پوچھے۔ اب جو غم پر صبر کرنے کے طالب علم ہیں وہ یہاں سے سبق سیکھ لیں۔ سوچیں کیا ہوگا رسول اللہ ﷺ کا ری ایکشن جب انہیں معلوم ہوا ہوگا؟ میری سوچ کی حد بس یہی ہے وہ اداس تو ہوں گے؟ شاید اکیلے میں روئے بھی ہوں۔ مگر یہ کیسی کشمکش تھی ہمارے نبی ﷺ پر کہ ایک طرف تو یوم الفرقان تھا مسلمانوں کے جشن کا دن اللہ کی طرف سے کامیابی کا دن اور رسول اللہ ﷺ پر کیا عجب وقت تھا۔ ذرا تصور کریں کہ غم و خوشی کے امتزاج کا وہ کیسا عجیب وقت ہوگا۔ ایک طرف نبی کی ذمہ داری، قوم کے لیڈر کی ذمہ داری اور دوسری طرف ایک والد جو کہ تمام عالم کے لئے رحمت ہیں۔
جب رسول اللہ ﷺ مدینہ واپس لوٹے اور انہیں بیٹی کے انتقال کی خبر ملی تو انہوں نے قبر پر جا کر جو کیفیت اختیار کی اس کا ذکر احادیث کی کتب میں ملتا ہے۔
مسند احمد (حدیث نمبر: 3103)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، اور الدر المنثور (سیوطی)
ان میں روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺ حضرت رقیہؓ کی قبر کے کنارے تشریف فرما ہوئے۔ ان کے پاس ان کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ الزہراءؓ بھی بیٹھی ہوئی تھیں اور رو رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ اپنی مبارک کملی یا کپڑے کے کنارے سے حضرت فاطمہؓ کے آنسو پونچھے جا رہے تھے اور آپ ﷺ کی مبارک آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ اسی موقع پر جب وہاں موجود خواتین کے رونے کی آواز بلند ہوئی، تو حضرت عمر بن الخطابؓ نے انہیں خاموش کرانا اور ڈانٹنا چاہا (کیونکہ جاہلیت میں چیخ کر رونے کا رواج تھا)۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو روکا اور فرمایا:
مَهْ يَا عُمَرُ، دَعْهُنَّ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَان
عمر! انہیں چھوڑ دو (رونے دو)، اور (اے عورتو!) شیطان کی طرح چیخنے چنگھاڑنے سے بچو۔”
مَا كَانَ مِنْ هَذِهِ وَمِنْ هَذِهِ – يَعْنِي ِمنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ – فَمِنَ اللَّهِ وَمِنَ الرَّحْمَةِ، ومَا َ كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ
جو کچھ آنکھ اور دل سے ہو (یعنی آنسو بہنا اور دل کا غمگین ہونا)، وہ اللہ کی طرف سے اور اس کی رحمت سے ہے؛ اور جو کچھ ہاتھ اور زبان سے ہو (یعنی گال پیٹنا، کپڑے پھاڑنا یا شکوے کے الفاظ بولنا)، وہ شیطان کی طرف سے ہے۔
حسن/صحیح (مسند احمد، اسناد(
ایک لمحے کو تصور کیجئے اور اس لمحے میں رسول اللہ ﷺ کے وقار اور تمکنت کو محسوس کیجیے تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ایک طرف مدینہ منورہ میں اسلامی تاریخ کی سب سے پہلی اور عظیم ترین فتح غزوہِ بدر کا جشن تھا، صحابہ کرام خوشی سے جھوم رہے تھے، اور دوسری طرف نبی کریم ﷺ کے گھر میں ان کی لختِ جگر، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی خاموش تدفین ہو چکی تھی۔
فتح اور غم کا ایسا عجیب، بوجھل اور نازک ترین سنگم انسان کے توازن کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، مگر اس لمحے میں بھی رسول اللہ ﷺ کا وقار متزلزل نہ ہوا۔ اور اس کے بعد آپ مدینہ کے معاملات کو دیکھنے مسجد نبوی میں آ گئے۔ کوئی احتجاج نہیں کیا اللہ سے، کوئی سوال نہیں کہ کیوں؟ سالوں بعد کامیابی دی تو ایسی کہ اس دن محبوب بیٹی کا انتقال ہو گیا؟ نہ خود کو الگ کر کے بیٹھ گئے نہ یہ کیا کہ معمولات سے کٹ گئے۔ اپنے غم میں اس قدر باوقار تھے کہ آپ سیرت نبوی ﷺ کی ساری کتب کھنگال لیں ایسا کوئی واقعہ درج نہیں ہوا جس میں یہ معلوم ہو کہ ان کے ذاتی غم نے مسلمانوں کی اجتماعی کامیابی کو متاثر کیا ہو۔ اور وہ میرے یا آپ جیسے کوئی عام انسان نہیں تھے وہ سردار دو جہاں ﷺ تھے وہ کہہ سکتے تھے کہ یا اللہ میرے غم پر دنیا روک دے اور بخدا اگر وہ یہ کہتے تو دنیا روک بھی دی جاتی مگر وہ باوقار تھے کیوں کہ وہ جانتے تھے وہ معلم اعظم ہیں اور انہوں نے ہمیں سکھایا کہ صبر کیسے کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں کیا زبانی کہ صبر کرو۔ انہوں نے کر کے دکھایا۔
تو بس میں نے جانا کہ یہ ہوتا ہے صبر جس کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے کہ
فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا
پس (اے محبوب!) آپ خوبصورت صبر (صبرِ جمیل) کیجیے۔ المعارج-۵
صبر ہے اللہ کی رضا پر بھیگی آنکھوں کے ساتھ سر تسلیم خم کرنے کا نام۔ انسانی جذبات کا پروقار انداز میں اظہار کرتے ہوئے اللہ کی رضا پر راضی ہونے کا نام۔ اپنی زندگی کے معاملات کو ادا کرنے کا نام۔
میں نے اپنی والدہ کی وفات کے بعد کھانا پینا چھوڑ دیا تھا، اکیلے رہنا شروع کر دیا تھا۔ بات چیت ترک کر دی تھی مجھے لگتا تھا کہ بس چپ رہنا صبر ہوتا ہے مگر نہیں ایسا ہر گز نہیں ہوتا۔ میری ایک سہیلی نے ایک مرتبہ مجھے کہا تھا کہ یہ جو تم کر رہی ہو یہ صبر نہیں ہے یہ اللہ کے آگے خاموش احتجاج ہے۔ صبر ہوتا ہے اللہ کی رضا پر راضی ہونے کا نام۔ کہ شدید غم میں بھی تمہارے سامنے کھانا آئے تو تم کھا لو کہ یہ میرے اللہ کا دیا رزق ہے اس پر شکر ادا کرو۔ بے شک تم آنسو بہاو، بے شک تم تکلیف کا اظہار کرو کیونکہ تم انسان ہو مگر تم اللہ کی رضا میں اگر راضی نہیں ہو تو پھر تم کچھ بھی ہو سکتے ہو صابر نہیں ہو سکتے۔
ایک مومن ہمیشہ باوقار ہوتا ہے۔ گریس فل انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ خوشی میں آپے سے باہر نہیں ہوتا اور نہ ہی غم یا غصے میں اپنا توازن کھوتا ہے۔ شدید سے شدید حالات میں بھی: اس کا اندازِ گفتگو، لہجہ اور باڈی لینگویج بے قابو نہیں ہوتی۔ اگر وہ غمزدہ ہو: تو وہ چیختا چلاتا یا واویلا نہیں کرتا، بلکہ اس کے غم میں بھی ایک خاموش اور پروقار سلیقہ ہوتا ہے۔
غم زندگی کا حصہ ہیں، اگر آپ یہ جان گئے کہ رسول اللہ ﷺ پر کیسے کیسے غموں کے پہاڑ ٹوٹے ہیں اور اس پر ان کا کیا ردعمل تھا تو آپ کی روح تڑپ اٹھے گی۔ وہ یہ ردعمل نہ بھی دیتے تو ہمارے حصے کے دکھ کبھی ہم سے جدا نہ ہوتے مگر وہ جانتے تھے کہ ان کا رد عمل نوٹ ہو رہا ہے اور وہ نوٹس آج ہمارے پاس ہیں۔ ان کا مطالعہ کیجئے تاکہ آپ کو علم ہو کہ یہ کیوں کہا گیا ہے
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ
بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ (کی ذاتِ گرامی) میں بہترین نمونہِ عمل ہے۔
الاحزاب ۲۱
اور یہ بھی جان لیں کہ آپ کا میرا ہم سب کا ردعمل بھی نوٹ ہو رہا ہے۔ آپ کے پاس یہ انتخاب نہیں ہے کہ آپ اپنی زندگی سے غم کو نکال دیں یہ انتخاب تو کسی کے پاس بھی نہیں مگر ہاں آپ کے پاس یہ انتخاب ضرور ہے کہ اس غم پر آپ شکوہ کرتے ہیں یا اللہ کی رضا کو خوشی تسلیم کرتے ہیں۔ اور اللہ کی رضا پر راضی ہونے والوں کے ردعمل بہت باوقار ہوتے ہیں یہ ہمیشہ یاد رکھئے گا۔ اس لئے میں کہتی ہوں کہ ایک باوقار غم کہلاتا ہے صبر جمیل، حسین صبر۔
اللہ ہم سب سے راضی ہو۔ وہ ہمیں ایسے صبر کی توفیق عطا فرمائے کہ جب حوض کوثر پر ہم رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کریں تو وہ ہم سے مسکرا کر ملیں کیوں کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ ڈٹے رہو یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر آ ملو !
آمین یا رب العالمین
زرمینہ زریں