جو جیسا کرے اس کے ساتھ ویسا ہی کرو کہ مصداق نہیں چل سکتے۔رسول پاک ﷺ نے تو نماز کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی ڈالنے والے عقبہ کے منہ پر وہ کچرہ نہیں مارا تھا نہ ہی کانٹے اٹھا کر ام جمیل کی چوکھٹ پر ڈالے تھے تو پھر کیسے کر دیں کسی کے ساتھ ویسا ہی جیسا اس نے کیا؟؟


کبھی کبھی سوچتی ہوں ایسا کیوں ہوا؟وہ اتنے پاک تھے پھر بھی ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ اتنے معصوم تھے پر ان کے پیروں کو کانٹوں کی چبھن سے آشنائی بخشی گئی ۔وہ پتھر جو پڑے تھے یاد ہے نا؟لہو جوتوں تک آیا تھا۔مجھے محبت کا دعوی ہے پندرہ سو سال بعد بھی یہ قصے چھڑ جائیں تو آنکھیں نم کر دیتے ہیں۔مگر انہیں ملنے والی وہ تکلیف تو شاید اسی روز ختم ہو گئی تھی اور کانٹوں کی چبھن بھی ,پاؤں کے زخم ذرا دیر سے صحیح مگر بھر گئے تھے۔تو پھر کیوں زندہ ہیں یہ بیتی ہوئی باتیں؟تھوڑا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ دکھ مٹ جاتے ہیں, ہمیشہ،مگر رد عمل، وہ امر ہو جاتے ہیں۔
پھر ذرا تخیل کی کھڑکی کا ایک پٹ وا کئے نئے منظر میں جاؤں تو دیکھتی ہوں کہ انہوں نے وہ جو اونٹ کی اوجھڑی ان پر ڈالی گئی تھی وہ ڈالنے والےکے منہ پہ دے ماری ،وہ کانٹے اٹھائے اور ام جمیل کی چوکھٹ پر ڈالا دیئے اور وہ پتھر اتنی طاقت سے واپس مارا کہ اس نوجوان کی آنکھ پھوٹ گئی۔سردار دو عالم کی شان میں گستاخی کی؟اتنی جرات؟؟پہاڑوں کے فرشتے سےکہا سفوف میں بدل ڈالو ان بدبختوں کو ،یہ جانتے نہیں ہم کون ہیں۔

مگر نہیں،ٹھہریں
یہ صد کیسی ہے جو مجھے تخیل سے باہر کھینچ رہی ہے؟؟
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
اور بے شک اپ حسن اخلاق کی بلند درجے پر فائز ہیں
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ [الأنبياء: 107
اور ہم نے اپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کے بھیجا
منظر کچھ ٹھیک نہیں بیٹھ رہا،جھرجھری سی آگئی،تخیل کی کھڑکی بند کرنی پڑی کیونکہ آگے کے مناظر روح کشاں تھے۔
یوں تو بدلہ ایک فرض ہو جاتا پھر ہر پتھر ہر کانٹا ہر گالی اگر واپس نہ کر دے تو گنہگار ہو جاتے۔
گناہوں کے انبار پہلے کم ہیں کیا؟یوں تو مظلوم کچھ نہ ہوتا اور ظلم ایک صفت بن جاتا۔لوگ آدم کو بھول جاتے،ابن قابیل کہلاتے۔
وہ کہانیاں زندہ ہیں،اس لیے نہیں کہ ان کے دکھوں پر رونا ہے بلکہ اس لیے کہ وہ رد عمل تا روز آخر زندہ ہے۔حسن خلق زندہ ہے۔ظالم پر بھی رحم زندہ ہے۔
حسن خلق کا بلند درجہ اجازت ہی نہیں دیتا کہ جھک کر پتھر اٹھائیں۔۔۔پلٹ کر وار کریں۔
شکوہ تک نہیں کیا اور میری حیرت بھی منہ کھولے کھڑی رہ گئی جب اس نے یہ جانا کہ بدلے میں دعا دے دی ۔ان سے محبت اور نسبت کا دعوی ہے تو پھر یہ کر کے دکھائیں۔۔۔!
وہ سرکار دو عالم، سرور کونین ،سید الانبیاء ،امام المرسلین ،حبیب خدا ﷺہو کر بھی پلٹ کر وار نہ کیے۔
اور ہم نہ جانے کہاں کی مٹی کےخمیر کھڑے ہو جاتے ہیں اپنی اناؤں کا دفاع کرنے۔
حوض کوثر یوں ہی نہیں مل جایا کرتا۔ کوثر تو نام ہے خیر کثیر کا بڑی بھلائی کا، دنیا کے چھوٹے دل اور بڑی انائیں حوض کوثر کے لیے نہیں بنیں۔
وہ جس نے اپنے محبوب کو تکلیف ہونے دی تاکہ اس کا رد عمل تا قیامت ہمارےلیے مثال بنا دےآپ کو کیا لگتا ہے ہماری انا کی اس کی نظر میں کوئی اوقات ہے؟
کانٹے چبھیں گے،، پتھر لگیں گے، کچرہ آپ کو ناپاک کرے گا تبھی تو پتہ چلے گا کہ آپ خلاق کے کس درجے پہ ہیں۔
تبھی تو پتہ چلے گا کہ حوض کوثر میں مسکراہٹ کی حقدار ہیں یا دھتکار کے۔
اگر وہاں ان سے آنکھ ملانی ہے تو یہاں ان کے قدموں کے وہ نشان ڈھونڈیں جن پہ چل کے کانٹے پتھر اور کچرا برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر سکیں۔
زندگی میں آپ کےمقام کا تعین بھلے آپ کے اختیار میں نہیں مگر اخلاق کے ہر درجے کا تعین صرف آپ ہاتھ میں ہے۔
-زرمینہ زرین

14
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *